جامع الترمذيThe Chapters On Judgements From The Messenger of Allah#1372صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ " عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " . فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ فَقَالَ " خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى تَلْقَى رَبَّهَا " . حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ . وَحَدِيثُ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَرَخَّصُوا فِي اللُّقَطَةِ إِذَا عَرَّفَهَا سَنَةً فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ يُعَرِّفُهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ تَصَدَّقَ بِهَا . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ لَمْ يَرَوْا لِصَاحِبِ اللُّقَطَةِ أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا إِذَا كَانَ غَنِيًّا . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ يَنْتَفِعُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا لأَنَّ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ أَصَابَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعَرِّفَهَا ثُمَّ يَنْتَفِعَ بِهَا وَكَانَ أُبَىٌّ كَثِيرَ الْمَالِ مِنْ مَيَاسِيرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعَرِّفَهَا فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْكُلَهَا فَلَوْ كَانَتِ اللُّقَطَةُ لَمْ تَحِلَّ إِلاَّ لِمَنْ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ لَمْ تَحِلَّ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لأَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصَابَ دِينَارًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَرَّفَهُ فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَكْلِهِ وَكَانَ لاَ يَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ . وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا كَانَتِ اللُّقَطَةُ يَسِيرَةً أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا وَلاَ يُعَرِّفَهَا . وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا كَانَ دُونَ دِينَارٍ يُعَرِّفُهَا قَدْرَ جُمُعَةٍ . وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Zaid bin Khalid Al-Juhni that "A man asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about lost items. So he said: 'Make a public announcement about it for one year. Remember its string, its contained, and its sack. Then use it, and if its owner comes then give it to him.' So he said to him: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! What about the stray sheep?' He said:'Take it, for it is either for you, your brother, or the wolf.' He submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! What about stray camel?'" He said: "Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) got angry until his cheeks became red or his face became red. He said: 'What concern is it of yours? It has its feet and its water reserve until it reaches its owner
الترجمة الأردية
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے لقطہ (گری پڑی چیز) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پھر اس کی بندھن، تھیلی اور ڈھکنا پہچان لو، پھر اس سے فائدہ اٹھاؤ، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے واپس کر دو۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بھٹکی ہوئی بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: اسے پکڑ لو کیونکہ وہ یا تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بھٹکے ہوئے اونٹ کا کیا حکم ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو گئے یہاں تک کہ آپ کے رخسارے سرخ ہو گئے یا آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کے کھر اور اس کا مشکیزہ ہے (یعنی وہ چل کر پانی تک پہنچ سکتا ہے) یہاں تک کہ اس کا مالک اسے مل جائے۔ زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے مروی ہے۔ اس باب میں ابی بن کعب، حضرت عبداللہ بن عمرو، جارود بن المعلیٰ، عیاض بن حمار اور جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ بعض اہل علم صحابہ اور دوسروں میں سے اس پر عمل کرتے ہیں کہ لقطے کا ایک سال اعلان کرے، اگر کوئی پہچاننے والا نہ ملے تو اس سے فائدہ اٹھائے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق کا قول ہے۔ بعض صحابہ اور دوسرے اہل علم فرماتے ہیں کہ ایک سال اعلان کرے، اگر مالک آ جائے تو واپس کر دے، ورنہ صدقہ کر دے۔ یہ سفیان ثوری اور ابن المبارک کا قول ہے اور اہل کوفہ کا بھی یہی قول ہے، انہوں نے مالدار آدمی کے لیے لقطے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں سمجھا۔ شافعی فرماتے ہیں: مالدار بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے اور وہ مالدار تھے۔ بعض اہل علم نے رخصت دی کہ اگر لقطہ معمولی ہو تو اعلان کیے بغیر فائدہ اٹھائے۔ بعض نے کہا اگر ایک دینار سے کم ہو تو ایک ہفتے کا اعلان کافی ہے۔ یہ اسحاق بن ابراہیم کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ " عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " . فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ فَقَالَ " خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى تَلْقَى رَبَّهَا " . حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ . وَحَدِيثُ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَرَخَّصُوا فِي اللُّقَطَةِ إِذَا عَرَّفَهَا سَنَةً فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ يُعَرِّفُهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ تَصَدَّقَ بِهَا . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ لَمْ يَرَوْا لِصَاحِبِ اللُّقَطَةِ أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا إِذَا كَانَ غَنِيًّا . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ يَنْتَفِعُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا لأَنَّ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ أَصَابَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعَرِّفَهَا ثُمَّ يَنْتَفِعَ بِهَا وَكَانَ أُبَىٌّ كَثِيرَ الْمَالِ مِنْ مَيَاسِيرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعَرِّفَهَا فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْكُلَهَا فَلَوْ كَانَتِ اللُّقَطَةُ لَمْ تَحِلَّ إِلاَّ لِمَنْ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ لَمْ تَحِلَّ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لأَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصَابَ دِينَارًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَرَّفَهُ فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَكْلِهِ وَكَانَ لاَ يَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ . وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا كَانَتِ اللُّقَطَةُ يَسِيرَةً أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا وَلاَ يُعَرِّفَهَا . وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا كَانَ دُونَ دِينَارٍ يُعَرِّفُهَا قَدْرَ جُمُعَةٍ . وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ .
It is narrated by Hadrat Zaid bin Khalid Al-Juhni that "A man asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about lost items. So he said: 'Make a public announcement about it for one year. Remember its string, its contained, and its sack. Then use it, and if its owner comes then give it to him.' So he said to him: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! What about the stray sheep?' He said:'Take it, for it is either for you, your brother, or the wolf.' He submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! What about stray camel?'" He said: "Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) got angry until his cheeks became red or his face became red. He said: 'What concern is it of yours? It has its feet and its water reserve until it reaches its owner
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے لقطہ (گری پڑی چیز) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پھر اس کی بندھن، تھیلی اور ڈھکنا پہچان لو، پھر اس سے فائدہ اٹھاؤ، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے واپس کر دو۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بھٹکی ہوئی بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: اسے پکڑ لو کیونکہ وہ یا تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بھٹکے ہوئے اونٹ کا کیا حکم ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو گئے یہاں تک کہ آپ کے رخسارے سرخ ہو گئے یا آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کے کھر اور اس کا مشکیزہ ہے (یعنی وہ چل کر پانی تک پہنچ سکتا ہے) یہاں تک کہ اس کا مالک اسے مل جائے۔ زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے مروی ہے۔ اس باب میں ابی بن کعب، حضرت عبداللہ بن عمرو، جارود بن المعلیٰ، عیاض بن حمار اور جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ بعض اہل علم صحابہ اور دوسروں میں سے اس پر عمل کرتے ہیں کہ لقطے کا ایک سال اعلان کرے، اگر کوئی پہچاننے والا نہ ملے تو اس سے فائدہ اٹھائے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق کا قول ہے۔ بعض صحابہ اور دوسرے اہل علم فرماتے ہیں کہ ایک سال اعلان کرے، اگر مالک آ جائے تو واپس کر دے، ورنہ صدقہ کر دے۔ یہ سفیان ثوری اور ابن المبارک کا قول ہے اور اہل کوفہ کا بھی یہی قول ہے، انہوں نے مالدار آدمی کے لیے لقطے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں سمجھا۔ شافعی فرماتے ہیں: مالدار بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے اور وہ مالدار تھے۔ بعض اہل علم نے رخصت دی کہ اگر لقطہ معمولی ہو تو اعلان کیے بغیر فائدہ اٹھائے۔ بعض نے کہا اگر ایک دینار سے کم ہو تو ایک ہفتے کا اعلان کافی ہے۔ یہ اسحاق بن ابراہیم کا قول ہے۔