العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعَانِ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ قَالُوا مَنْ وَهَبَ هِبَةً لِذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً لِغَيْرِ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا . وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ . وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat 'Amr bin Shu'aib that he heard Tawus narrating from Hadrat Ibn 'Umar and Hadrat Ibn 'Abbas, and they both narrated this Hadith from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). (A Hadith similar to no. 1298). [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with him), is a Hasan Sahih Hadith. This Hadith is acted upon according to soe of the people of knowledge among the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). They said whoever gives a gift to a closely related relative, then he is not to take back his gift. And whoever gives a gift to someone other then a close relative, then he may take it back as long as it has not been reciprocated. This is the view of Ath-Thawri. Ash-Shafi'i said: "It is not lawful for any that has given a gift to take it back except for what the father gave to his son." Ash-Shafi'i argued with the Hadith of 'Abdullah bin 'Umar from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him): "It is not lawful for anyone that has given a gift to take it back, except for a father who give something to his son
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی عطیہ دے کر اسے واپس لے سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو کسی ذی محرم کو کوئی چیز بطور ہبہ دے تو پھر اسے واپس لینے کا اختیار نہیں، اور جو کسی غیر ذی محرم کو کوئی چیز بطور ہبہ دے تو اس کے لیے اسے واپس لینا جائز ہے جب اسے اس کا بدلہ نہ دیا گیا ہو، یہی ثوری کا قول ہے، ۳- اور شافعی کہتے ہیں: کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو کوئی عطیہ دے پھر اسے واپس لے، سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے، شافعی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث سے استدلال کیا ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی عطیہ دے کر اسے واپس لے سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے“۔
