العربية (الأصل)
985 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ الْجِيزِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا طَلْقُ بْنُ السَّمْحِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ مَرِضَ فَعَادَهُ بَعْضُ إِخْوَانِهِ، فَقَالَ لِجَارِيَتِهِ: يَا جَارِيَةُ هَلُمِّي لِإِخْوَانِنَا شَيْئًا وَلَوْ كِسْرًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
الترجمة الإنجليزية
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that he fell ill, and some of his brothers came to visit him. He said to his servant: 'Bring something for our brothers, even if it be a piece of bread, for I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Indeed, noble manners are among the deeds of the people of Paradise."'
الترجمة الأردية
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک وہ بیمار پڑ گئے تو ان کے کچھ (دینی) بھائی ان کی عیادت کے لیے آئے، انہوں نے اپنی کنیز سے کہا: کنیز! جلدی سے ہمارے بھائیوں کے لیے کچھ لے کر آؤ چاہے روٹی کا ایک ٹکڑا ہی ہو کیونکہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے سنا ہے:”بے شک اعلیٰ اخلاق اہل جنت کے اعمال میں سے ہیں۔“[مسند الشهاب/حدیث: 985]
