العربية (الأصل)
518 - أنا أَبُو يَعْقُوبَ بْنُ خُرَّزَاذَ، أنا أَبُو يَعْقُوبَ السَّعْتَرِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ فَحَلَفَ لَا يُعْطِيهُ ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ»مَا أَعْطَيْتُكَ، ثُمَّ أَعْطَاهُ
الترجمة الإنجليزية
Whoever takes an oath and then finds something better than the opposite, let him expiate his oath and do that which is better.
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے کچھ مانگا تو انہوں نے قسم کھائی کہ وہ اسے نہیں دیں گے، پھر کہنے لگے: اگر میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ:”جو شخص کسی کام پر قسم کھا لے پھر اس کے برعکس اس سے بہتر صورت دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور اس بہتر صورت کو اختیار کر لے۔“تو میں تجھے کبھی نہ دیتا، پھر انہوں نے اسے دے دیا۔[مسند الشهاب/حدیث: 518]
