العربية (الأصل)
1497 - أنا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوَالِيقِيُّ أنا أَبُو الْقَاسِمِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي حُصَيْنٍ الْهَمْدَانِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ، نا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقُرَشِيُّ الْهُبَارِيُّ، نا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسَاوِرٍ الْعِجْلِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمْ يَرِدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا إِلَّا قَالَ حِينَ يَنْهَضُ مِنْ جُلُوسِهِ: «اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ، أَنْتَ ثِقَتِي، وَأَنْتَ رَجَائِي، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا هَمَّنِي، وَمَا لَمْ أَهْتَمَّ بِهِ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ زَوِّدْنِي التَّقْوَى، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَجِّهْنِي لِلْخَيْرِ أَيْنَمَا تَوَجَّهْتُ»، قَالَ ثُمَّ يَخْرُجُ"
الترجمة الإنجليزية
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) said: Whenever the Messenger of Allah (peace be upon him) intended a journey, he would recite these words before getting up from his place: "O Allah, by Your enabling I set out, towards You I turn, and to You I hold fast. You are my trust and You are my hope. O Allah, suffice me in my important and less important affairs, and in those You know better than I. O Allah, grant me provision of piety."
الترجمة الأردية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجب بھی کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے یہ کلمات ضرور پڑھتے:”اے اللہ! میں تیری توفیق سے اٹھا، تیری طرف متوجہ ہوا اور تجھی کو مضبوطی سے تھاما۔ تو میرا بھروسا ہے اور تو ہی میری امید ہے۔ اے اللہ! میرے اہم اور غیر اہم کاموں میں مجھے کافی ہو جا، اور ان میں بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ! مجھے تقویٰ کا توشہ عطا فرما، اور میرے گناہ بخش دے اور میں جہاں کہیں بھی منہ کروں مجھے خیر کی طرف متوجہ کر۔“راوی کہتا ہے کہ پھر آپ (یہ کلمات پڑھ کر) سفر کے لیے روانہ ہوتے۔[مسند الشهاب/حدیث: 1497]
