العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم مُنْتَصِرًا مِنْ مَظْلَمَةٍ ظُلِمَهَا قَطُّ، مَا لَمْ يُنْتَهَكْ مِنْ مَحَارِمِ اللهِ تَعَالَى شَيْءٌ، فَإِذَا انْتُهِكَ مِنْ مَحَارِمِ اللهِ شَيْءٌ كَانَ مِنْ أَشَدِّهِمْ فِي ذَلِكَ غَضَبًا، وَمَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، إِلا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ مَأْثَمًا.
الترجمة الإنجليزية
'A’isha said:"I never saw Allah’s Messenger (Allah bless him and give him peace) take revenge for an outrage committed against him as long as none of the sacred prohibitions of Allah were violated, but if there was any violation of the sacred prohibitions of Allah, he would be enraged. Whenever he was given a choice between two matters, he would choose the easier of the two, provided it was not conducive to sin.”
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ذاتی تکلیف کا بدلہ لیتے نہیں دیکھا جب تک اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو نہ توڑا جاتا۔ جب اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو توڑا جاتا تو آپ سب سے زیادہ غضبناک ہوتے۔ اور جب آپ کو دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تو آسان کو اختیار فرماتے جب تک وہ گناہ نہ ہو۔
