العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ قَدْ كَانَ رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَهَرَ فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً.
الترجمة الإنجليزية
'Abdu’llah ibn Abi Qais said:"I asked "Hadrat A'isha (may Allah be well pleased with her) about the Qur’anic recitation of the Noble Prophet (Allah bless him and give him peace): “Was he used to whispering the recitation, or pronouncing it audibly?” She said: “He used to do both. He would sometimes whisper and sometimes speak audibly.” I therefore said: “Praise be to Allah, who has granted us flexibility in the matter!”
الترجمة الأردية
حضرت عبد اللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں: میں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں پوچھا کہ کیا آپ آہستہ پڑھتے تھے یا بلند آواز سے؟ فرمایا: دونوں طرح پڑھتے تھے۔ کبھی آہستہ اور کبھی بلند آواز سے۔ میں نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی۔
