العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا، أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: بِسْمِ اللهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلاثًا، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ، إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat 'Ali ibn Rabi'a said:"I was present when Hadrat 'Ali (may Allah be well pleased with him) had an animal brought for him to ride. When he placed his foot in the stirrup, he said: “In the Name of Allah . (Al-Qur'an;43:13-14)Then he said: “Praise be to Allah,” three times, and: “Allah is Supremely Great,” three times, then: “Glory be to You! I have wronged myself, so forgive me, for no one forgives sins but You!” Then he laughed, so I said to him: “What has made you laugh, O Commander of the Believers?” He said: “I saw Allah’s Messenger (Allah bless him and give him peace) do just as I did now, after which he laughed, so I said: "What has made you laugh, O Beloved Messenger of Allah?" He replied: ‘Your Lord surely marvels at His servant when he says: “My Lord, forgive me my sins, knowing that no one but He forgives sins'!”
الترجمة الأردية
حضرت علی بن ربیعہ فرماتے ہیں: میں حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پاس موجود تھا جب ان کے لیے سواری لائی گئی۔ جب انہوں نے رکاب میں پاؤں رکھا تو فرمایا: بسم اللہ۔ جب اونٹ کی پشت پر بیٹھے تو فرمایا: الحمد للہ۔ پھر فرمایا: سبحان الذی سخّر لنا ہٰذا وما کنّا لہ مقرنین وانّا الیٰ ربّنا لمنقلبون۔ پھر تین بار الحمد للہ اور تین بار اللہ اکبر کہا۔ پھر فرمایا: سبحانک لا الہ الّا انت ظلمت نفسی فاغفرلی۔ پھر ہنسے۔ میں نے پوچھا: آپ کیوں ہنسے؟ فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا پھر ہنسے تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنسے؟ فرمایا: تیرا رب خوش ہوتا ہے جب بندہ کہے: میرے گناہ بخش دے، وہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔
