العربية (الأصل)
نَا نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَرَّ بِالْجَزَّارِينَ، فَقَالَ:" مَنْ يَذْبَحُ لَكُمْ؟" فَقَالُوا: هَذَا. فَقَالَ:" أَنْتَ تَذْبَحُ لِهَؤُلاءِ؟" فَقَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ:" أَخْبِرْنِي عَنْ صَلاةِ كَذَا وَكَذَا". فَلَمْ يَدْرِ، فَضَرَبَهُ وَأَخْرَجَهُ مِنَ السُّوقِ، وَضَرَبَ الْجَزَّارِينَ، وَقَالَ:" يَذْبَحُ لَكُمْ مِثْلُ هَذَا، وَاللَّهُ يَقُولُ: وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121".
الترجمة الإنجليزية
Sufyan narrated from Mansur, from Mujahid, regarding the verse: 'Indeed, Allah does not like transgressors' (al-A'raf: 55) — He said: 'This refers to transgression in supplication and in other matters.'
الترجمة الأردية
قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قصابوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: تمہارے لیے کون ذبح کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ شخص۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تم ان کے لیے ذبح کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے فلاں فلاں نماز کے بارے میں بتاؤ۔ وہ نہ بتا سکا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مارا اور بازار سے نکال دیا اور قصابوں کو بھی مارا اور فرمایا: تمہارے لیے ایسا شخص ذبح کرے گا؟ حالانکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ﴾یعنی اور اس چیز میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 911]
