العربية (الأصل)
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ: قَالَ رَجُلٌلِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: لا أَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ خَيْرٌ لِي أَمْ أُقْبِلُ عَلَى نَفْسِي؟ قَالَ:" أَمَّامَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَلا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ، وَمَنْ كَانَ خُلْوًا، فَلْيُقْبِلْ عَلَى خَاصَّةِ نَفْسِهِ، وَلْيَنْصَحْ وَلِيَّ أَمْرِهِ".
الترجمة الإنجليزية
Al-Sa'ib ibn Yazid (may Allah be pleased with him) said: "A man asked 'Umar ibn al-Khattab: 'Is it better to fear no blame in Allah's cause or to focus on myself?' 'Umar said: 'Whoever is in charge of any affair of the Muslims should fear no blame in Allah's cause. But the one who has no such authority should focus on himself.'"
الترجمة الأردية
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کرنا بہتر ہے یا اپنی ذات کی اصلاح میں لگ جانا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی ہو اسے اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرنی چاہیے، اور جو تنہا ہو وہ اپنی ذات کی اصلاح میں لگ جائے اور اپنے حاکم کو نصیحت کرے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 847]
