العربية (الأصل)
نا نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ, فِي قَوْلِهِ: فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ سورة المائدة آية 95 , قَالَ:"إِذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّيْدَ يَحْكُمُ عَلَيْهِ جَزَاؤُهُ، فَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ ذَبَحَهُ، وَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ قُوِّمَ جَزَاؤُهُ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قُوِّمَتِ الدَّرَاهِمُ طَعَامًا، فَصَامَ مَكَانَ كُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا، وَإِنَّمَا أُرِيدَ بِالطَّعَامِ الصِّيَامُ، وَإِنَّهُ إِذَا وُجِدَ الطَّعَامُ، وُجِدَ جَزَاؤُهُ".
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said regarding 'the penalty is an equivalent from sacrificial animals' (al-Ma'idah: 95): 'When a person in ihram kills game, the equivalent penalty is determined. If he has the equivalent animal, he slaughters it and gives the meat in charity. If he does not have the equivalent animal, its value is assessed in dirhams, then the dirhams are assessed in food, and he fasts one day for every half sa' of food. The food is meant to determine the amount of fasting, for when food is available, the equivalent penalty is also available.'
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت﴿فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾کے بارے میں فرمایا: جب مُحرم شکار کر لے تو اس پر اس کا کفارہ واجب ہوگا، اگر اس کے پاس اسی کے مثل جانور موجود ہو تو اسے ذبح کر کے اس کا گوشت صدقہ کر دے، اگر اس کے پاس ایسا جانور نہ ہو تو اس جانور کی قیمت دراہم میں لگائی جائے گی، پھر دراہم کے برابر غلہ کا حساب لگایا جائے گا اور ہر آدھا صاع کے بدلے ایک روزہ رکھا جائے گا۔ یہاں غلہ سے روزے مراد ہیں، اور جب غلہ موجود ہو تو اس کا کفارہ بھی موجود سمجھا جائے گا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 832]
