العربية (الأصل)
نا نا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْيَرْفَا , قَالَ: قَالَ لِيعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:" إِنِّيأَنْزَلْتُ نَفْسِي مِنْ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَنْزِلَةِ وَلِيِّ الْيَتِيمِ، إِنِ احْتَجْتُ أَخَذَتُ مِنْهُ، فَإِذَا أَيْسَرْتُ رَدَدْتُهُ، وَإِنِ اسْتَغْنَيْتُ اسْتَعْفَفْتُ، وَإِنِّي وَلِيتُ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ أَمْرًا عَظِيمًا، فَإِذَا أَنْتَ سَمِعْتَنِي حَلَفْتُ عَنْ يَمِينٍ فَلَمْ أُمْضِهَا، فَأَطْعِمْ عَنِّي عَشَرَةَ مَسَاكِينَ خَمْسَةَ آصَعَ بُرٍّ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ".
الترجمة الإنجليزية
'Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) said: "I have placed myself in regard to Allah's wealth in the position of a guardian of an orphan. If I am in need, I take from it; when I have ease, I return it; and if I am self-sufficient, I abstain. I have been appointed over a great affair of the Muslims, so if you hear me swear an oath and then see me do something better, know that I have expiated for my oath."
الترجمة الأردية
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو مالِ اللہ میں یتیم کے ولی کی طرح رکھا ہے، اگر مجھے ضرورت پیش آئے تو لے لیتا ہوں، جب آسانی ہو تو واپس کر دیتا ہوں، اور اگر غنی ہو جاؤں تو بچتا ہوں۔ اور مجھے مسلمانوں کے ایک بڑے معاملے کا والی بنایا گیا ہے، لہٰذا اگر تم مجھے کسی قسم پر سنو اور میں اسے پورا نہ کروں، تو میری طرف سے دس مسکینوں کو پانچ صاع گیہوں کھلا دینا، ہر دو مسکینوں کو ایک صاع۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 788]
