العربية (الأصل)
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: سَأَلْتُابْنَ مَسْعُودٍعَنِالسُّحْتِ، أَهُوَ الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ؟ قَالَ:" لا وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ، وَالظَّالِمُونَ، وَالْفَاسِقُونَ، وَلَكِنَّ السُّحْتَ: أَنْ يَسْتَعِينَكَ رَجُلٌ عَلَى مَظْلَمَةٍ، فَيُهْدِيَ لَكَ، فَتَقْبَلَهُ، فَذَلِكَ السُّحْتُ".
الترجمة الإنجليزية
Masruq (may Allah have mercy on him) said: "I asked Ibn Mas'ud about suht (unlawful earning) — is it bribery in judgment? He said: 'No. And whoever does not judge by what Allah has revealed — those are the disbelievers, the wrongdoers, and the transgressors. But the one who judges by what Allah has not revealed as a bribe, that is suht.'"
الترجمة الأردية
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سحت یعنی حرام مال کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ حکم میں دی جانے والی رشوت ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں،﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾،﴿الظَّالِمُونَ﴾، اور﴿الْفَاسِقُونَ﴾یہ الگ آیات ہیں، لیکن سحت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی ظلم میں تم سے مدد مانگے، اور تمہیں کچھ ہدیہ دے، اور تم وہ قبول کر لو، پس یہی سحت ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 741]
