العربية (الأصل)
نَاهُشَيْمٌ، قَالَ: نَامُغِيرَةُ, قَالَ: حَدَّثَنِيالشعبي, عَنِالرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ، فَيَقُولُ: أَثَمَّ فُلانٌ،إِنْ كُنْتَ مُوسِرًا فَأَدِّهْ، وَإِنْ كُنْتَ مُعْسِرًا فَإِلَى مَيْسَرَةٍ. فَقُلْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ , فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الرِّبَا".
الترجمة الإنجليزية
Al-Rabi' ibn Khuthaym (may Allah have mercy on him) had a debt owed to him by a man, and he would say: O so-and-so, if you are well-off then pay it, and if you are in hardship then wait until you are able. I mentioned this to Ibrahim (may Allah have mercy on him), and he said: That granting of respite is specifically about usury.
الترجمة الأردية
ربیع بن خثیم رحمہ اللہ کا کسی شخص پر قرض تھا، تو وہ کہا کرتے:”فلاں شخص گناہگار ہے، اگر تو صاحبِ استطاعت ہے تو قرض ادا کر، اور اگر تنگدست ہے تو آسانی کے وقت تک مؤخر کر۔“میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ سے کہی تو انہوں نے فرمایا:”یہ مہلت دینا سود کے بارے میں ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 452]
