العربية (الأصل)
نَاأَبُو شِهَابٍ، عَنْلَيْثٍ، عَنْمُجَاهِدٍ, قَالَ:" مِنَ الْقُنُوتِ: الرُّكُوعُ، وَالْخُشُوعُ، وَغَضُّ الْبَصَرِ، وَخَفْضُ الْجَنَاحِ مِنْ رَهْبَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَانَ الْعُلَمَاءُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ فِي الصَّلاةِ، يَهَابُ الرَّحْمَنَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَنْ يَمْتَدَّ بَصَرُهُ، أَوْ يَعْبَثَ بِشَيْءٍ، أَوْ يَلْتَفِتَ، أَوْ يُقَلِّبَ الْحَصَا، أَوْ يُحَدِّثَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ مِنْ شَأْنِ الدُّنْيَا إِلا نَسْيًا".
الترجمة الإنجليزية
Mujahid (may Allah have mercy on him) said: Among the aspects of devout obedience (qunut) are bowing, humility, lowering the gaze, and showing meekness out of awe of Allah the Almighty. When the scholars stood in prayer, they would be so awed by the Most Merciful (glorified and exalted) that they would not extend their gaze, play with anything, turn around, flip pebbles, or think about worldly matters — except what occurred unintentionally.
الترجمة الأردية
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: قنوت میں رکوع، خشوع، نظر کا جھکانا، اور اللہ عزوجل کے خوف سے عاجزی شامل ہے۔ علماء جب نماز میں کھڑے ہوتے تو رحمن سبحانہ وتعالیٰ کی ہیبت سے اپنی نظر بلند نہ کرتے، کسی چیز سے نہ کھیلتے، نہ ادھر اُدھر دیکھتے، نہ کنکریاں الٹتے، اور نہ ہی اپنے دل میں دنیاوی معاملات کے بارے میں سوچتے، سوائے جو بھولے سے ہو جاتا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 406]
