العربية (الأصل)
نا نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا مُعَاوِيَةُ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ بِصِفِّينَ فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَأَذَّنَّا وَأَذَّنُوا، وَأَقَمْنَا فَأَقَامُوا، فَصَلَّيْنَا وَصَلَّوْا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا الْقَتْلَى بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَقُلْتُلِعَلِيٍّحِينَ انْصَرَفَ: مَا تَقُولُ فِي قَتْلانَا وَقَتْلاهُمْ؟ فَقَالَ:" مَنْ قُتِلَ مِنَّا وَمِنْهُمْ يُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الآخِرَةَ دَخَلَ الْجَنَّةَ".
الترجمة الإنجليزية
Al-Sha'bi (may Allah have mercy on him) said: "'Umar's letters to his commanders always began with the command to fear Allah."
الترجمة الأردية
صفین کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اذان دی گئی، دونوں لشکروں نے نماز پڑھی، پھر میں نے عرض کیا:”ہمارے اور ان کے مقتولین کے بارے میں کیا حکم ہے؟“تو فرمایا:”جو ہم میں سے یا ان میں سے اللہ کا چہرہ اور آخرت چاہتا تھا، وہ جنت میں جائے گا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4144]
