العربية (الأصل)
ناحَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُالْحَسَنَ، يَقُولُ: إِنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ يَوْمَ الأَحْزَابِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لا تُمِتْنِي حَتَّى تَشْفِيَنِي مِنْ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَحْزَابِ، وَانْصَرَفَ إِلَى قُرَيْظَةَ فَحَاصَرَهُمْ، فَوَلِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ حُكْمَهُمْ، فَحَكَمَ فِيهِمْ أَنْ يُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى الذَّرَارِيُّ، فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ أَنْ يَقْتُلَ مِنْ مُقَاتِلَتِهِمْ، وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ، ثُمَّ حُمِلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَكَانَ فِي جَنَازَتِهِ يَوْمَئِذٍ مُنَافِقُونَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَا أَخَفَّهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فِيمَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: فِيمَا حَكَمَ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ وَهُمْ كَاذِبُونَ، وَقَدْ كَانَ سَعْدٌ كَثِيرَ اللَّحْمِ، عَبْلا مِنَ الرِّجَالِ، عَظِيمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَحْمِلُونَهُ:" يَقُولُونَ مَا أَخَفَّهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِاهْتَزَّ الْعَرْشُ لِرُوحِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ".
الترجمة الإنجليزية
Ibrahim (may Allah have mercy on him) narrated 'Umar's instructions on maintaining prayer and worship during campaigns.
الترجمة الأردية
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو غزوۂ احزاب کے دن تیر لگا، تو دعا کی:”اے اللہ! مجھے نہ مار جب تک تو قریظہ اور نضیر سے مجھے تسکین نہ دے۔“پھر جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمقریظہ کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں محصور کیا، تو ان کے فیصلے کے لیے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، انہوں نے حکم دیا کہ مردوں کو قتل کیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا جائے۔ پھر ان کی وفات کے وقت منافقین نے کہا:”کتنا ہلکا ہے۔“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، سعد کی روح کے لیے عرش ہل گیا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4138]
