العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَاأَبُو عَوَانَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ إِلَيْنَاكَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، فَقَالَ:فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ:" فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ شَأْنُكَ؟ قَالَ: خَرَجَنْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ، فَوَقَعَ الْقَمْلُ فِي رَأْسِي وَلِحْيَتِي وَشَارِبِي، حَتَّى وَقَعَ فِي حَاجِبِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ هَذَا، ادْعُ الْحَالِقَ". فَجَاءَ الْحَالِقُ، فَحَلَقَ رَأْسِي، فَقَالَ:" هَلْ تَجِدُ مِنْ نَسِيكَةٍ؟"، قُلْتُ: لا وَهِيَ شَاةٌ، قَالَ:" فَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلاثَةَ آصُعٍ، بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ"، قَالَ: وَأُنْزِلَتْ فِيَّ خَاصَّةً، وَهِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً.
الترجمة الإنجليزية
Jabir (may Allah be pleased with him) said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would not sleep until he had recited 'Alif-Lam-Mim, the revelation' (Surah al-Sajdah) and 'Blessed is He in whose hand is dominion' (Surah al-Mulk)."
الترجمة الأردية
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے، تو ہمارے پاس سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ آ کر بیٹھے، انہوں نے کہا: میری وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ﴾، کہا: میں نے پوچھا: آپ کا معاملہ کیسا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ محرم ہو کر نکلے، تو میرے سر، داڑھی اور مونچھوں میں جوئیں پڑ گئیں، حتیٰ کہ میری ابروؤں تک پہنچ گئیں، میں نے اس کا ذکر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے کیا تو آپ نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تکلیف تمہیں اس حد تک پہنچ جائے گی، حجام کو بلاؤ، تو حجام آیا اور اس نے میرا سر منڈوا دیا، پھر آپ نے فرمایا: کیا تم نسک (فدیہ) کے لیے کچھ پاتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں - اور وہ بکری تھی -، آپ نے فرمایا: تو تین دن روزہ رکھو یا تین صاع چھ مسکینوں کے درمیان کھلاؤ، کہا: اور یہ آیت خاص طور پر میری وجہ سے نازل ہوئی، اور یہ لوگوں کے لیے عام ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 289]
