العربية (الأصل)
نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ:" إِذَا تَسَرَّتِ السَّرِيَّةُ بِإِذْنِ الإِمَامِ، لَهُمْ مَا أَصَابُوا، وَإِذَا تَسَرَّتِ السَّرِيَّةُ بِغَيْرِ إِذْنِهِ خَمَّسَهُمْ وَكَانُوا كَالنَّاسِ".
الترجمة الإنجليزية
Al-Hasan al-Basri (may Allah have mercy on him) said: "If a raiding party sets out with the commander's permission, whatever they gain belongs to them. But if it sets out without his permission, the one-fifth is taken from their spoils and they are treated like everyone else."
الترجمة الأردية
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں:”اگر کوئی دستہ امیر کی اجازت سے نکلے تو جو مال وہ حاصل کریں وہ ان کا ہے، اور اگر بغیر اجازت کے نکلے تو ان کا مال پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور وہ عام لوگوں کے برابر ہوں گے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3861]
