العربية (الأصل)
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" خَرَجْنَا فِي جَيْشٍ نَحْوَ فَارِسَ فِيهِمْ: عَلْقَمَةُ ابْنُ قَيْسٍ، وَمِعْضَدٌ الْعِجْلِيُّ، وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، فَحَاصَرْنَا قَصْرًا، وَكَانَ مَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا مَرِيضٌ، فَحَفَرْنَا لَهُ قَبْرًا، فَرَأَى يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ كَأَنَّهُ بِغُزَيْلٍ أَبْيَضَ حَتَّى دُفِنَ فِي ذَلِكَ الْقَبْرِ، وَكَانَ يَزِيدُ أَبْيَضَ خَفِيفًا فَجَعَلَ يَتَعَرَّضُ الْقَصْرَ، فَأَصَابَهُ حَجَرٌ فَقَتَلَهُ، فَجِئْنَا بِهِ، فَدَفَنَّاهُ فِي ذَلِكَ الْقَبْرِ، وَخَرَجَ عَمْرُو بْنُ عُتْبَةَ يَتَعَرَّضُ لِلْقَصْرِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ بَيْضَاءُ جَدِيدَةٌ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ تَحَدُّرَ الدَّمِ عَلَى هَذِهِ فَأَصَابَهُ حَجَرٌ، فَقَتَلَهُ فَتَحَدَّرَ الدَّمُ عَلَى جُبَّتِهِ، فَدَفَنَّاهُ، وَخَرَجَ مِعْضَدٌيَتَعَرَّضُ لِلْقَصْرِ فَأَصَابَهُ حَجَرٌ، فَشَجَّهُ، فَجَعَلَ يَمْسَحُهَا بِيَدِهِ، وَيَقُولُ:" إِنَّهَا لَصَغِيرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَارِكُ فِي الصَّغِيرَةِ، فَمَاتَ مِنْهَا فَدَفَنَّاهُ".
الترجمة الإنجليزية
'Abd al-Rahman ibn Yazid said: "We went out in an army toward Persia, among us were 'Alqamah ibn Qays, Mi'dad al-'Ijli, Yazid ibn Mu'awiyah al-Nakha'i, and 'Amr ibn 'Utbah ibn Farqad. We besieged a fortress. A sick companion of ours had a grave dug for him. Yazid saw in a dream a small white deer buried in that grave. Then Yazid went near the fortress and was hit by a stone and killed, so we buried him in that grave. Then 'Amr ibn 'Utbah went near the fortress wearing a new white cloak and said: 'How beautiful the sight of blood flowing on this would be!' He was hit by a stone and killed, and blood flowed on his cloak. We buried him. Then Mi'dad went near the fortress and was struck on the head by a stone. He wiped it saying: 'It is a small wound, and Allah blesses small things.' He died from it, and we buried him."
الترجمة الأردية
سیدنا عبد الرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ہم ایک لشکر کے ساتھ فارس کی طرف نکلے، ان میں علقمہ بن قیس، معضد عجلی، یزید بن معاویہ نخعی اور عمرو بن عتبہ بن فرقد بھی تھے۔ ہم نے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔ ہمارے ساتھ ایک بیمار ساتھی تھا، اس کے لیے قبر کھودی گئی۔ یزید بن معاویہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک سفید بکری اس قبر میں دفن ہو رہی ہے۔ پھر یزید قلعہ کے قریب گیا تو اس پر پتھر لگا جس نے اسے قتل کر دیا۔ ہم نے اسے اسی قبر میں دفن کیا۔ پھر عمرو بن عتبہ قلعہ کے قریب گیا، اس نے سفید نئی جبہ پہن رکھی تھی۔ کہا:”خون کے اس پر بہنے کا منظر کتنا خوبصورت ہوگا۔“پھر اسے بھی پتھر لگا جس نے اسے قتل کر دیا۔ خون اس کی جبہ پر بہہ نکلا۔ ہم نے اسے دفن کیا۔ پھر معضد قلعہ کے قریب گیا تو اس کے سر پر پتھر لگا، وہ کہتا تھا:”یہ تو چھوٹا زخم ہے، اللہ چھوٹی چیز میں بھی برکت دیتا ہے۔“پھر وہ اسی زخم سے فوت ہو گیا اور ہم نے اسے دفن کیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3756]
