العربية (الأصل)
ناإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أناابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَىنَافِعٍعَنْ دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ عِنْدَ الْقِتَالِ، فَكَتَبَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ، وَقَدْ" أَغَارَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تَسْقِي عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلِيهِمْ، وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ". حَدَّثَنِي بِذَلِكَعَبْدُ اللَّهِ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ.
الترجمة الإنجليزية
Ibn 'Awn wrote to Nafi' asking about whether polytheists should be invited to Islam before being fought. He replied: "That was only at the beginning of Islam."
الترجمة الأردية
ابن عون رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ کو خط لکھ کر مشرکین کو لڑائی سے پہلے دعوت دینے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ:”یہ عمل ابتدائے اسلام میں تھا، اور نبی اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بنی المصطلق پر اچانک حملہ کیا جبکہ وہ بے خبر تھے، اور ان کے مویشی پانی پر چر رہے تھے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا، ان کے قیدی بنائے، اور اسی دن سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو حاصل کیا۔“یہ روایت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی، جو اس لشکر میں شامل تھے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3661]
