العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثناهُشَيْمٌ، أَخْبَرَنِييَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الرُّمَيْصَاءَ، أَوِ الرُّمَيْضَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَشْكُو زَوْجَهَا، وَتَزْعُمُ أَنَّهُ لا يَصِلُ إِلَيْهَا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، إِنَّهْ يَصِلُ إِلَيْهَا، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ ذَاكَ لَهَا حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ".
الترجمة الإنجليزية
Ibn 'Abbas narrated: Al-Rumaysa' (or al-Rumayda') came to the Messenger of Allah (peace be upon him) complaining about her husband, claiming he was not approaching her. Shortly after, her husband came and said: "She is lying. I do approach her, but she wants to go back to her first husband." The Prophet (peace be upon him) said: "She is not lawful for him (the first husband) until she tastes the honey of the second and he tastes her honey (i.e., until the second marriage is consummated)."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ رمیصاء یا رمیدہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئیں اور شوہر کی شکایت کی کہ وہ ان کے پاس نہیں آتا، تھوڑی دیر میں شوہر بھی آ گیا اور کہا کہ وہ جھوٹی ہے، وہ چاہتی ہے کہ پہلے شوہر کے پاس واپس جائے، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ اس کے لیے جائزہ نہیں ہے جب تک کہ دوسرا شوہر اس سے تعلق نہ قائم کرے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3161]
