العربية (الأصل)
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:آلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَنَسٍ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، فَغَابَ عَنْهَا سِتَّةَ أَشْهُرٍ، ثُمَّ جَاءَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ:" ائْتِهَا فَأَعْلِمْهَا أَنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، ثُمَّ اخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا" فَأَتَاهَا فَأَعْلَمَهَا وَخَطَبَهَا إِلَى نَفْسِهَا، وَأَصْدَقَهَا رِطْلا مِنْ وَرِقٍ.
الترجمة الإنجليزية
Ibrahim narrated: 'Abdullah ibn Anas took an oath of abstinence from his wife and went away for six months. When he returned, he had relations with her. When told that she had been separated from him, he went to 'Abdullah (ibn Mas'ud) who said: "Go to her and inform her that she has been separated from you, then propose to her." He did so and married her with a dowry of one ratl of silver.
الترجمة الأردية
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر چھ مہینے غائب رہے، پھر واپس آ کر بیوی کے پاس آئے، تو لوگوں نے کہا کہ وہ تم سے جدا ہو چکی ہے، پس سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ذکر کیا، انہوں نے فرمایا:”اس کے پاس جاؤ اور اطلاع دو کہ تم سے جدا ہو چکی ہے، پھر اسے نکاح کا پیغام دو۔“چنانچہ اس نے نکاح کیا اور ایک رطل چاندی مہر مقرر کی۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3115]
