العربية (الأصل)
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ، فَإِنْ نَوَى ثَلاثًا فَثَلاثٌ، وَإِنْ نَوَى وَاحِدَةً فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ شَيْئًا فَيَمِينٌ يُكَفِّرُهَا".
الترجمة الإنجليزية
Ibrahim said: "If a man says to his wife 'you are forbidden to me' — if he intended three, it is three. If he intended one, it is one irrevocable divorce. If he intended nothing, it is an oath that requires expiation."
الترجمة الأردية
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا:”جو اپنی بیوی سے کہے: تو مجھ پر حرام ہے، تو اگر نیت تین طلاقوں کی ہو تو تین، اگر ایک کی ہو تو ایک بائنہ، اور اگر کوئی نیت نہ کرے تو قسم اور اس کا کفارہ ہو گا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2877]
