العربية (الأصل)
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّرَجُلا خَرَجَ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهِ، وَهُوَ لا يُنْكِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا، فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ , فَقَالَتْ:" لَوْ أَنَّ الَّذِي بِيَدِكَ مِنْ أَمْرِي بِيَدِي لَعَلِمْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَنَعَمْ، فَنَعَمْ، فَارْتَفَعُوا إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ فَأَخْبَرُوهُ بِقِصَّتِهِمْ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: ذَاكَ بِكَ، ذَاكَ بِكَ".
الترجمة الإنجليزية
Al-Hasan narrated: A man went out from his family without any complaints. He encountered his wife who said: "If the authority you have over me were in my hands, I would know what to do." The man said: "Yes, yes." They took the matter to Abu Musa al-Ash'ari, who said: "That (the consequence) is upon you."
الترجمة الأردية
حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک مرد اپنے اہل کے پاس گیا اور کوئی برائی نہ دیکھی، تو اس کی بیوی نے کہا:”اگر معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں جانتی کہ کیا کرتی۔“مرد نے کہا:”ہاں۔“پھر وہ لوگ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو آپ نے فرمایا:”یہ معاملہ تیرے ساتھ ہو گیا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2837]
