العربية (الأصل)
نا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ: دَخَلَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَلَى النَّصْرِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: إِنَّيَتِيمَكَ هَذَا قَدْ حَلَفَ بِالطَّلاقِ، وَالْعِتَاقِ , قَالَ الْقَاسِمُ:" أَمَّا الطَّلاقُ فَإِلَيْهِ، وَأَمَّا الْعِتَاقُ، فَإِلَيَّ".
الترجمة الإنجليزية
Al-Qasim ibn Muhammad came to the governor of Madinah who said: "Your orphan has sworn by divorce and freeing of slaves." Al-Qasim said: "As for divorce, that is his own affair. As for freeing of slaves, that is my responsibility."
الترجمة الأردية
سیدنا قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ناصری (مدینہ کے امیر) کے پاس داخل ہوئے، اس نے کہا:”تمہارا یتیم طلاق اور آزادی کی قسم کھا بیٹھا ہے۔“قاسم نے کہا:”طلاق کا معاملہ اس کا اپنا ہے اور آزادی کا معاملہ میرا ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2789]
