العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ:خَلَعَ جُمْهَانَ الأَسْلَمِيَّ امْرَأَتُهُ ثُمَّ نَدِمَ وَنَدِمَتْ، فَأَتَيَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" هِيَ تَطْلِيقَةٌ إِلا تَكُونَ سَمَّيَتْ شَيْئًا فَهُوَ عَلَى مَا سَمَّيَتْ"، فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: الْخُلْعُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ، وَتَعْتَدُّ ثَلاثَ حِيَضٍ، وَصَاحِبُهَا أَوْلَى بِالْخِطْبَةِ فِي الْعِدَّةِ.
الترجمة الإنجليزية
Jumhan al-Aslami gave his wife khul', then both he and she regretted it. They came to Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with him) and mentioned it to him. He said: "It counts as one divorce unless they specified something, in which case it is as specified." Hisham said: My father used to say: "Khul' is an irrevocable divorce; she observes a waiting period of three menstrual periods, and the husband has more right to propose during the waiting period."
الترجمة الأردية
جمحان اسلمی نے اپنی بیوی کو خلع دیا، پھر دونوں نے ندامت کا اظہار کیا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو آپ نے فرمایا: یہ ایک بائن طلاق ہے، جب تک کچھ مخصوص نہ کیا ہو۔ ہشام کہتے ہیں: میرے والد کہا کرتے تھے: خلع بائن طلاق ہے، اور عورت تین حیض عدت گزارے گی، اور عدت میں وہی شوہر نکاح کا سب سے زیادہ حقدار ہو گا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2624]
