العربية (الأصل)
نَا نَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: نَا نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالُوا: قَالَعَبْدُ اللَّهِ:" مِنْ أَفْرَسِ النَّاسِ ثَلاثَةٌ: الْعَزِيزُ الَّذِي اشْتَرَى يُوسُفَ، قَالَ: عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا سورة يوسف آية 21 , وَالْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَتْ لأَبِيهَا فِي مُوسَى: يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الأَمِينُ سورة القصص آية 26، وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ وَلَّى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُمُورَ الْمُسْلِمِينَ".
الترجمة الإنجليزية
Mujahid (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'Alif, Lam, Ra. These are the verses of the clear Book' (Yusuf: 1) — He said: 'It was made clear in its lawful and unlawful matters.'
الترجمة الأردية
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: فرمایا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے تین افراد تھے؛ عزیز مصر جس نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو خریدا تو کہا:﴿عَسَىٰ أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا﴾یعنی شاید یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں، اور وہ عورت جس نے اپنے والد سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا:﴿يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾یعنی ابا جان! اسے مزدور رکھ لیجئے، بے شک بہترین مزدور وہی ہے جو طاقتور اور امانتدار ہو، اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جب انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ بنایا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1113]
