العربية (الأصل)
نَاسُفْيَانُ، عَنْعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْيَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ:" كَانَعُمَرُرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُلا يُثْبِتُ آيَةً فِي الْمُصْحَفِ حَتَّى يَشْهَدَ عَلَيْهَا رَجُلانِ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَحَدَّثَهُ بِالآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ التَّوْبَةِ: لَقَدْ جَاءَكُمْ سورة التوبة آية 128 الآيَةَ، فَقَالَ: لا أَسْأَلُكَ عَلَيْهَا بَيِّنَةً، كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْبَتَهُ".
الترجمة الإنجليزية
Yahya ibn Ja'dah (may Allah have mercy on him) said: 'Umar (may Allah be pleased with him) would not confirm a verse in the Mushaf until two men testified to it. A man from the Ansar came and told him of the last two verses of Surah al-Tawbah: "There has certainly come to you a Messenger from among yourselves" (al-Tawbah: 128). Umar said: I will not ask you for further evidence — such was the Messenger of Allah (peace be upon him). So he confirmed those verses.'
الترجمة الأردية
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قرآن میں کسی آیت کو اس وقت تک شامل نہیں کرتے تھے جب تک دو آدمی اس پر گواہی نہ دے دیتے، پس ایک انصاری شخص ان کے پاس آیا اور سورہ توبہ کی آخری دو آیات﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ﴾یعنی تمہارے پاس اللہ کے رسول آئے کی خبر دی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے اس پر کوئی اور گواہی طلب نہیں کرتا، یہی بات رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے بھی ثابت ہے، پس انہوں نے ان آیات کو مصحف میں درج کر دیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1053]
