العربية (الأصل)
وعن أبي طلحة زيد بن سهل رضي الله عنه قال: كنا قعودًا بالأفنية نتحدث فيها فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالم علينا فقال: "ما لكم ولمجالس الصعدات؟ فقلنا: إنما قعدنا لغير ما بأس، قعدنا نتذاكر، ونتحدث. قال: "إما لا فأدوا حقها: غض البصر، ورد السلام، وحسن الكلام" ((رواه مسلم)). "الصُّعُدات" بضم الصاد والعين، أي: الطرقات.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Hadrat Talhah Hadrat Zaid bin Sahl (may Allah be well pleased with him) said:We were sitting and talking on a platform in front of our house when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stopped by us and said, "Why do you sit on roads? Avoid sitting in them." We replied: "We sit there intending no harm. We only sit and discuss (religious) knowledge and talk." He said, "If you have to sit, you should fulfill the rights of the road: Lower your gaze, respond to greetings and talk in a good manner.".
الترجمة الأردية
حضرت ابو حضرت طلحہ زید بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم گھروں کے سامنے صحن میں بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: تمہیں راستوں میں بیٹھنے سے کیا کام؟ ہم نے عرض کیا: ہم بے ضرر بیٹھے ہیں، ذکر اور باتیں کر رہے ہیں۔ ارشاد فرمایا: اگر بیٹھنا ہی ہے تو اس کا حق ادا کرو — نظر نیچی رکھو، سلام کا جواب دو اور اچھی بات کرو۔ (رواہ مسلم)
