العربية (الأصل)
وعن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال: " من تحلم بحلم لم يره، كُلف أن يعقد بين شعيرتين ولن يفعل، ومن استمع إلى حديث قوم وهم له كارهون، صب في أذنيه الآنُك يوم القيامة، ومن صور صورة، عذب وكلف أن ينفخ فيها الروح وليس بنافخ".رواه البخاري . تحلم أي: قال أنه حلم في نومه ورأى كذا وكذا، وهو كاذب و الآنك بالمد وضم النون وتخفيف الكاف: وهو الرصاص المذاب .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with them) said:the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "He who narrates a dream which he has not seen will be put to trouble to join into a knot two barley seeds which he will not be able to do; and he who seeks to listen to the talk of a people (secretly) will have molten lead poured into his ears on the Day of Resurrection; and he who makes a picture (of people or other creatures with a soul, such as animals and insects) will be (severely punished), and he will be asked to infuse spirit therein, which he will not be able to do.".
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کوئی ایسا خواب بیان کیا جو اس نے نہیں دیکھا تو اسے مکلف کیا جائے گا کہ دو جَو کے دانوں میں گرہ لگائے اور وہ ہرگز نہ لگا سکے گا۔ اور جس نے کسی قوم کی بات سنی جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ اور جس نے تصویر بنائی اسے عذاب دیا جائے گا اور مکلف کیا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے اور وہ ہرگز نہ پھونک سکے گا۔ (رواہ البخاری)
