العربية (الأصل)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: (1) أَنْظِرُوا (2) هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا" رواه مسلم (وكذلك مالك وأبو داود)
الترجمة الإنجليزية
On the authority of Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him), that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: The gates of Paradise will be opened on Mondays and on Thursdays, and every servant who associates nothing with Allah will be forgiven, except for the man who has a grudge against his brother. It will be said: Delay these two until they are reconciled; delay these two until they are reconciled; delay these two until they are reconciled. It was related by Muslim (also by Malik and Abu Dawud).
الترجمة الأردية
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت کے دروازے پیر اور جمعرات کو کھولے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کو بخش دیا جاتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا، سوائے اس شخص کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی ہو۔ کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو یہاں تک کہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو یہاں تک کہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو یہاں تک کہ صلح کر لیں۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا (نیز مالک اور ابو داود نے بھی)۔
