العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ، قَالَ لَمَّا رَجَعَ قَوْمِي مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا إِنَّهُ قَالَ " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ " . قَالَ فَدَعَوْنِي فَعَلَّمُونِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ وَكَانَتْ عَلَىَّ بُرْدَةٌ مَفْتُوقَةٌ فَكَانُوا يَقُولُونَ لأَبِي أَلاَ تُغَطِّي عَنَّا اسْتَ ابْنِكَ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat 'Amr bin Salamah (may Allah be well pleased with him) said: "When my people came back from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)they said that he had said: 'Let the one who recites the Quran most lead you in prayer.' So they called me and taught me how to bow and prostrate, and I used to lead them in prayer, wearing a torn cloak, and they used to say to my father: 'Will you not conceal your son's backside from us?
الترجمة الأردية
حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میرے قبیلہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے لوٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم میں جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے ، تو ان لوگوں نے مجھے بلا بھیجا، اور مجھے رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا تو میں ان لوگوں کو نماز پڑھاتا تھا، میرے جسم پر ایک پھٹی چادر ہوتی، تو وہ لوگ میرے والد سے کہتے تھے کہ تم ہم سے اپنے بیٹے کی سرین کیوں نہیں ڈھانپ دیتے؟۔
