العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ تِلْكَ اللَّيْلَةُ سَارَ بِنَا حَتَّى أَمْسَيْنَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ نَسِيَ الصَّلاَةَ فَقُلْنَا لَهُ الصَّلاَةَ . فَسَكَتَ وَسَارَ حَتَّى كَادَ الشَّفَقُ أَنْ يَغِيبَ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى وَغَابَ الشَّفَقُ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ هَكَذَا كُنَّا نَصْنَعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat Nafi' (may Allah be well pleased with him) said: "We came back with Hadrat Ibn 'Umar from Makkah. One night he kept on travelling until evening came, and we thought that he had forgotten the prayer!' But he kept quiet and kept going until the twilight had almost disappeared, then he stopped and prayed, and when the twilight disappeared he prayed 'Isha'. Then he turned to us and said: This is what we used to do with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) if he was in a hurry to travel
الترجمة الأردية
نافع کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے آئے، تو جب وہ رات آئی تو وہ ہمیں لے کر چلے ( اور برابر چلتے رہے ) یہاں تک کہ ہم نے شام کر لی، اور ہم نے گمان کیا کہ وہ نماز بھول گئے ہیں، چنانچہ ہم نے ان سے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ خاموش رہے اور چلتے رہے یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی ۱؎ پھر وہ اترے اور انہوں نے نماز پڑھی، اور جب شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: جب چلنے کی جلدی ہوتی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔
