العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِحَجَرٍ وَهِيَ حُبْلَى فَقَتَلَتْهَا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً وَجَعَلَ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَتِهَا فَقَالُوا نُغَرَّمُ مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلْ وَلاَ اسْتَهَلّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ هُوَ مَا أَقُولُ لَكُمْ " .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from al-a'mash from Ibrahim (upon him be peace) who said: "I woman struck her co-wife, who was pregnant, with a rock and killed her Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ruled that a slave should be given (as Diyah) for the child in her woman, and that her Diyah should be paid by her 'Asabah. They said:' should we be penalized for one who neither after nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked.' He said: 'Rhyming vase like the vase of the Bedouisn? It is what I say to (sahih)
الترجمة الأردية
حضرت ابراہیم (نخعی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوتن کو پتھر سے مارا جو حاملہ تھی اور اسے قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیٹ کے بچے کے بدلے غُرّہ مقرر فرمایا اور اس کی دیت اس کے عصبہ پر مقرر فرمائی۔ انہوں نے کہا: ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ چلایا، ایسے کا خون رائیگاں ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: کیا اعرابیوں کی طرح مسجع بات ہے؟ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں وہی (حکم) ہے۔
