العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - فَوَاللَّهِ لاَ أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ " إِنَّ الْحَلاَلَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ " . وَرُبَّمَا قَالَ " وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً " . قَالَ " وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلاً إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا حَرَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى " . وَرُبَّمَا قَالَ " إِنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطِ الرِّيبَةَ يُوشِكْ أَنْ يَجْسُرَ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat An-Nu'man bin Bashir (may Allah be well pleased with him) said: "I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: "That which is lawful is plain and that which is unlawful is plain, and between them are matters which are not as clear. I will strike a parable for you about that: indeed Allah, the Mighty and Sublime, has established a sanctuary, and the sanctuary of Allah is that which He has forbidden. Whoever approaches the sanctuary is bound to transgress upon it, Or he said: 'Whoever grazes around the sanctuary will soon transgress upon it, and whoever indulges in matters that are not clear, he will soon transgress beyond the limits
الترجمة الأردية
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا — اللہ کی قسم! اس کے بعد میں کسی سے نہیں سنوں گا کہ وہ کہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا — آپ ارشاد فرما رہے تھے: بے شک حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ امور ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس کی ایک مثال دیتا ہوں، بے شک اللہ عزوجل نے ایک چراگاہ مقرر فرمائی ہے اور اللہ عزوجل کی چراگاہ وہ ہے جو اس نے حرام کیا ہے، اور جو شخص چراگاہ کے ارد گرد چرتا ہے قریب ہے کہ اس میں داخل ہو جائے، اور جو شخص شبہات میں مبتلا ہوتا ہے قریب ہے کہ وہ جرأت کر بیٹھے۔
