العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - قَالَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالآخَرُ عَنْ يَسَارِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَاكُ فَكِلاَهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ فَقَالَ " إِنَّا لاَ - أَوْ لَنْ - نَسْتَعِينَ عَلَى الْعَمَلِ مَنْ أَرَادَهُ وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ " . فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ثُمَّ أَرْدَفَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رضى الله عنهما .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Abu Burdah that Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) said: "I came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) when he was using the Siwak and with me were two men of the Ash'aris - one on my right and the other on my left - who were seeking to be appointed as officials. I said: 'By the One Who sent you as a the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) with the truth, they did not tell me why they wanted to come with me and I did not realize that they were seeking to be appointed as officials.' And I could see his Siwak beneath his lip, then it slipped and he said: 'We do not' - or; 'We will never appoint as an official anyone who seeks that. Rather you should go.'" So he sent his (Hadrat Abu Musa) to Yemen, then he sent Hadrat Mu'adh bin Jabal to go after him - may Allah be well pleased with them
الترجمة الأردية
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو آدمی تھے، ان میں سے ایک میرے دائیں اور دوسرا میرے بائیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسواک کر رہے تھے، تو ان دونوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کام ( نوکری ) کی درخواست کی ۲؎، میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے، ان دونوں نے اپنے ارادے سے مجھے آگاہ نہیں کیا تھا، اور نہ ہی مجھے اس کا احساس تھا کہ وہ کام ( نوکری ) کے طلب گار ہیں، گویا میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مسواک کو ( جو اس وقت آپ کر رہے تھے ) آپ کے ہونٹ کے نیچے دیکھ رہا ہوں اور ہونٹ اوپر اٹھا ہوا ہے، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم کام پر اس شخص سے مدد نہیں لیتے جو اس کا طلب گار ہو ۳؎، لیکن ( اے حضرت ابوموسیٰ! ) تم جاؤ ( یعنی ان دونوں کے بجائے میں تمہیں کام دیتا ہوں ) ، چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یمن کا ذمہ دار بنا کر بھیجا، پھر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ان کے پیچھے بھیجا۔
