Hadrat Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah (may Allah be well pleased with him) narrated that 'Abdullah bin 'Amr bin Hadrat 'Uthman divorced the daughter of Sa'eed bin Zaid -whose mother was Hamnah bint Qais- irrevocably. Her maternal aunt Hadrat Fatimah bint Qais told her to move from the house of 'Abdullah bin 'Amr. Marwan heard of that, so he sent word to her, telling her to go back to her home until her 'Iddah was over. She sent a word to him telling him that her maternal aunt Hadrat Fatimah had issued a Fatwa to that effect, and she told her that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had issued a Fatwa to her, telling her to move when Abu 'Amr bin Hafs Al-Makhzumi divorced her. Marwan sent Qabisah bin Dhu'aib to Hadrat Fatimah to ask her about that. She said that she had been married to Abu 'Amr when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) appointed Hadrat 'Ali bin Abi Talib as governor of Yemen, and he went out with him, then he sent word to her divorcing her, and that was the final divorce for her. He told her to ask Al-Harith bin Hisham and 'Ayyash for her provisions that her husband had allocated for her. They said: "By Allah, she is not entitled to any provision. So, she sent to Al-Harith bin Hisham and 'Ayyash asking them for the provisions from us unless she is pregnant, and she has no right to live in our house unless we permit her." Hadrat Fatimah said that she went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and told him about that and he said that they had told the truth. She said: "I said: 'Where shall I move to, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?' He said: 'Move to the house of Ibn Umm Maktum' -who was the blind man, concerning whom Allah rebuked him in His Book. I moved to his house, and I used to take off my outer garments." Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) married her to Hadrat Usamah bin Zaid
الترجمة الأردية
زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن حضرت عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی کو طلاق بتہ دی ۱؎ لڑکی کی ماں کا نام حمنہ بنت قیس تھا، لڑکی کی خالہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کے گھر سے ( کہیں اور ) منتقل ہو جا، یہ بات مروان ( مروان بن حکم ) نے سنی تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن حضرت عثمان کی بیوی کو کہلا بھیجا کہ اپنے گھر میں آ کر اس وقت تک رہو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے، ( اس کے جواب میں ) اس نے مروان کو یہ خبر بھیجی کہ مجھے میری خالہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گھر چھوڑ دینے کا فتویٰ دیا تھا اور بتایا تھا کہ جب ان کے شوہر ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں طلاق دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں گھر سے منتقل ہو جانے کا حکم دیا تھا۔ ( یہ قصہ سن کر ) مروان نے قبیصہ بن ذویب ( نامی شخص ) کو ( تحقیق واقعہ کے لیے ) فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا۔ ( وہ آئے ) اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ وہ ابوعمرو کی بیوی تھیں اور وہ اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو یمن کا امیر ( گورنر ) بنا کر بھیجا تھا علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھ یمن چلے گئے تھے اور وہاں سے انہوں نے انہیں وہ طلاق دے کر بھیجی جو باقی رہ گئی تھی اور حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کہلا بھیجا تھا کہ وہ انہیں نفقہ دے دیں گے تو فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حارث اور عیاش سے اس نفقہ کا مطالبہ کیا جسے انہیں دینے کے لیے ان کے شوہر نے ان سے کہا تھا، ان دونوں نے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جواب دیا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے ذمہ کوئی نفقہ نہیں ہے، ( یعنی ان کے لیے نفقہ کا حق ہی نہیں تھا ) ہاں اگر وہ حاملہ ہوں ( تو انہیں بیشک وضع حمل تک نفقہ مل سکتا ہے ) اور اب ان کے لیے ہمارے گھر میں رہنے کا بھی حق نہیں بنتا، الا یہ کہ ہم انہیں ( ازراہ عنایت ) اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ ( یہ باتیں سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ ساری باتیں آپ کو بتائیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کی تصدیق کی ( کہ انہوں نے صحیح بات بتائی ہے ) ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ“۔ یہ ابن ام مکتوم وہی نابینا شخص ہیں جن کی خاطر اللہ نے اپنی کتاب ( قرآن پاک کی سورۃ عبس ) میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر عتاب فرمایا تھا۔ تو میں ان کے یہاں چلی گئی۔ ( ان کے نہ دیکھ پانے کی وجہ سے بغیر کسی دقت و پریشانی کے ) میں وہاں اپنے کپڑے اتار لیتی ( اور تبدیل کر لیتی ) تھی ۲؎ اور یہ سلسلہ اس وقت تک رہا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نہ کرا دی۔
Hadrat Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah (may Allah be well pleased with him) narrated that 'Abdullah bin 'Amr bin Hadrat 'Uthman divorced the daughter of Sa'eed bin Zaid -whose mother was Hamnah bint Qais- irrevocably. Her maternal aunt Hadrat Fatimah bint Qais told her to move from the house of 'Abdullah bin 'Amr. Marwan heard of that, so he sent word to her, telling her to go back to her home until her 'Iddah was over. She sent a word to him telling him that her maternal aunt Hadrat Fatimah had issued a Fatwa to that effect, and she told her that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had issued a Fatwa to her, telling her to move when Abu 'Amr bin Hafs Al-Makhzumi divorced her. Marwan sent Qabisah bin Dhu'aib to Hadrat Fatimah to ask her about that. She said that she had been married to Abu 'Amr when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) appointed Hadrat 'Ali bin Abi Talib as governor of Yemen, and he went out with him, then he sent word to her divorcing her, and that was the final divorce for her. He told her to ask Al-Harith bin Hisham and 'Ayyash for her provisions that her husband had allocated for her. They said: "By Allah, she is not entitled to any provision. So, she sent to Al-Harith bin Hisham and 'Ayyash asking them for the provisions from us unless she is pregnant, and she has no right to live in our house unless we permit her." Hadrat Fatimah said that she went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and told him about that and he said that they had told the truth. She said: "I said: 'Where shall I move to, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?' He said: 'Move to the house of Ibn Umm Maktum' -who was the blind man, concerning whom Allah rebuked him in His Book. I moved to his house, and I used to take off my outer garments." Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) married her to Hadrat Usamah bin Zaid
زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن حضرت عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی کو طلاق بتہ دی ۱؎ لڑکی کی ماں کا نام حمنہ بنت قیس تھا، لڑکی کی خالہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کے گھر سے ( کہیں اور ) منتقل ہو جا، یہ بات مروان ( مروان بن حکم ) نے سنی تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن حضرت عثمان کی بیوی کو کہلا بھیجا کہ اپنے گھر میں آ کر اس وقت تک رہو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے، ( اس کے جواب میں ) اس نے مروان کو یہ خبر بھیجی کہ مجھے میری خالہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گھر چھوڑ دینے کا فتویٰ دیا تھا اور بتایا تھا کہ جب ان کے شوہر ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں طلاق دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں گھر سے منتقل ہو جانے کا حکم دیا تھا۔ ( یہ قصہ سن کر ) مروان نے قبیصہ بن ذویب ( نامی شخص ) کو ( تحقیق واقعہ کے لیے ) فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا۔ ( وہ آئے ) اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ وہ ابوعمرو کی بیوی تھیں اور وہ اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو یمن کا امیر ( گورنر ) بنا کر بھیجا تھا علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھ یمن چلے گئے تھے اور وہاں سے انہوں نے انہیں وہ طلاق دے کر بھیجی جو باقی رہ گئی تھی اور حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کہلا بھیجا تھا کہ وہ انہیں نفقہ دے دیں گے تو فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حارث اور عیاش سے اس نفقہ کا مطالبہ کیا جسے انہیں دینے کے لیے ان کے شوہر نے ان سے کہا تھا، ان دونوں نے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جواب دیا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے ذمہ کوئی نفقہ نہیں ہے، ( یعنی ان کے لیے نفقہ کا حق ہی نہیں تھا ) ہاں اگر وہ حاملہ ہوں ( تو انہیں بیشک وضع حمل تک نفقہ مل سکتا ہے ) اور اب ان کے لیے ہمارے گھر میں رہنے کا بھی حق نہیں بنتا، الا یہ کہ ہم انہیں ( ازراہ عنایت ) اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ ( یہ باتیں سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ ساری باتیں آپ کو بتائیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کی تصدیق کی ( کہ انہوں نے صحیح بات بتائی ہے ) ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ“۔ یہ ابن ام مکتوم وہی نابینا شخص ہیں جن کی خاطر اللہ نے اپنی کتاب ( قرآن پاک کی سورۃ عبس ) میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر عتاب فرمایا تھا۔ تو میں ان کے یہاں چلی گئی۔ ( ان کے نہ دیکھ پانے کی وجہ سے بغیر کسی دقت و پریشانی کے ) میں وہاں اپنے کپڑے اتار لیتی ( اور تبدیل کر لیتی ) تھی ۲؎ اور یہ سلسلہ اس وقت تک رہا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نہ کرا دی۔