العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَلْوَانُهُمْ وَعَظُمَتْ بُطُونُهُمْ فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى لِقَاحٍ لَهُ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَحُّوا فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَلَبِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ . قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدُ الْمَلِكِ لأَنَسٍ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ بِكُفْرٍ أَمْ بِذَنْبٍ قَالَ بِكُفْرٍ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَنَسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ طَلْحَةَ وَالصَّوَابُ عِنْدِي وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ يَحْيَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلٌ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) that some Bedouins from 'Urainah came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and became Muslims, but the climate of Al-Madinah did not suit them; their skin turned yellow and their stomachs became swollen. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent them to some pregnant camels of his and told them to drink their milk and urine until they recovered. Then they killed the camel-herder and drove the camels away. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent people after then and they were brought back. their hands and feet were cut off and their eyes were smoldered with burning nails. The Commander of the Believers, 'Abdul-Malik, said to Hadrat Anas - when he was narrating this Hadith to him - "(Were they being punished) for Kufr or for a sin?" He said: "For Kufr
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی ( دیہاتی ) آئے، اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، یہاں تک کہ ان کے رنگ زرد ہو گئے، اور پیٹ پھول گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی اونٹنیوں کے پاس بھیج دیا ۱؎ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پئیں، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو گئے، تو ان لوگوں نے آپ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ان کے تعاقب میں بھیجا، چنانچہ انہیں پکڑ کر آپ کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی۔
