العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ كُرَيْبًا، قَالَ سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ - وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشِيَّةَ عَرَفَةَ - فَقُلْتُ كَيْفَ فَعَلْتُمْ قَالَ أَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى بَلَغْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَنَاخَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ فَأَنَاخُوا فِي مَنَازِلِهِمْ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ الآخِرَةَ ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ فَنَزَلُوا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا انْطَلَقْتُ عَلَى رِجْلِي فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ وَرَدِفَهُ الْفَضْلُ .
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Ibrahim (upon him be peace) bin Uqbah that Kuraib said: "I asked usamah bin Zaid, who rode behind the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) one the evening of Arafat. I said: "What did you do?' He said: 'We started traveling until we reached Al-Muzadalifah, then he stopped and prayed Maghrib. Then he sent word to the people to stay in their camps, and they did not unload their camels until the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had prayed the later Isah. Then the people unloaded their camels and made camp. When morning came I set out on foot amonth those of the Quraish who got there first, and Al-Fadl rode behind the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)
الترجمة الأردية
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اور وہ عرفہ کی شام میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے پوچھا: آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: ہم چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کو بٹھایا، پھر مغرب پڑھی، پھر آپ نے لوگوں کو ( اترنے کی اطلاع ) بھیجی، تو لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنے اونٹ بٹھا لیے۔ تو ابھی وہ اتر بھی نہ سکے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری نماز عشاء بھی پڑھ لی۔ پھر لوگ اترے اور قیام کیا، پھر صبح کی تو میں قریش کے پہلے جتھے والوں کے ساتھ پیدل گیا۔ اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ( اونٹ پر ) سوار ہوئے۔
