العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، سَمِعَ جَدَّهُ، يَقُولُ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّهُ قَالَ صلى الله عليه وسلم " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ فَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ وَآخِرُهُمْ فَيُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا وَلاَ يَنْجُو إِلاَّ الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ " . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ مَا كَذَبْتَ عَلَى جَدِّكَ وَأَشْهَدُ عَلَى جَدِّكَ أَنَّهُ مَا كَذَبَ عَلَى حَفْصَةَ وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Hafsah narrated that he said:An invading army will come toward this House until when they are in Al-Baida, the middle of them will be swallowed up by the earth. The first of them will call out to the last of them, and they will be wallowed up, until there is no one left of them except a fugitive who will tell of what happened to them." A man (hearing the narration) said: "I bear witness that you did not attribute a lie to your grandfather, and I bear witness that your grandfather did not attribute a lie to Hadrat Hafsah, and I bear witness that Hafsh, did not attribute a lie to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)
الترجمة الأردية
عبداللہ بن صفوان کہتے ہیں کہ مجھ سے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایک لشکر اس گھر پر حملہ کرنا چاہے گا، اس کا قصد کرے گا یہاں تک کہ جب وہ سر زمین بیداء میں پہنچے گا، تو اس کا درمیانی حصہ دھنسا دیا جائے گا ( ان کو دھنستا دیکھ کر ) لشکر کا ابتدائی و آخری حصہ چیخ و پکار کرنے لگے گا، تو وہ بھی سب کے سب دھنسا دیے جائیں گے، اور کوئی نہیں بچے گا، سوائے ایک بھاگے ہوئے شخص کے جو ان کے متعلق خبر دے گا“، ایک شخص نے ان ( امیہ بن صفوان ) سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے اپنے دادا کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے، اور انہوں نے حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے۔
