It is narrated that Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: "We were forbidden in the Quran to ask the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) about anything not imperative, so we liked it when a wise man from among the people of the desert came and asked him. A man from among the desert people came and said: 'O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him), your messenger came to us and told us that you say that Allah, the Mighty and Sublime, has sent you.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'Who created the heavens?' He said: 'Allah.' He said: 'Who created the Earth?' He said: 'Allah.' He said: 'Who set up the mountains in it?' He said: 'Allah.' He said: 'Who created beneficial things in them?' He said: 'Allah.' He said: 'By the One Who created the heavens and the Earth, and set up the mountains therein, and created beneficial things in them, has Allah sent you?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to offer five prayers each day and night.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to pay Zakah on our wealth.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to fast the month of Ramadan each year.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent You, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to perform Hajj, those who can afford it.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'By the One Who sent you with the truth, I will not do more than this or less.' When he left, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'If he is sincere, he will certainly enter paradise
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے، چنانچہ ایک دیہاتی آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے پوچھا: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں نفع بخش ( چیزیں ) کس نے بنائیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور اس میں نفع بخش ( چیزیں ) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں“، پھر اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( نمازوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس نے سچ کہا“ ( پھر ) اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( دنوں کے روزوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا: میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا“۔
It is narrated that Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: "We were forbidden in the Quran to ask the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) about anything not imperative, so we liked it when a wise man from among the people of the desert came and asked him. A man from among the desert people came and said: 'O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him), your messenger came to us and told us that you say that Allah, the Mighty and Sublime, has sent you.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'Who created the heavens?' He said: 'Allah.' He said: 'Who created the Earth?' He said: 'Allah.' He said: 'Who set up the mountains in it?' He said: 'Allah.' He said: 'Who created beneficial things in them?' He said: 'Allah.' He said: 'By the One Who created the heavens and the Earth, and set up the mountains therein, and created beneficial things in them, has Allah sent you?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to offer five prayers each day and night.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to pay Zakah on our wealth.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to fast the month of Ramadan each year.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent You, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'Your messenger said that we have to perform Hajj, those who can afford it.' He said: 'He spoke the truth.' He said: 'By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this?' He said: 'Yes.' He said: 'By the One Who sent you with the truth, I will not do more than this or less.' When he left, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'If he is sincere, he will certainly enter paradise
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے، چنانچہ ایک دیہاتی آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے پوچھا: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں نفع بخش ( چیزیں ) کس نے بنائیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور اس میں نفع بخش ( چیزیں ) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں“، پھر اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( نمازوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس نے سچ کہا“ ( پھر ) اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( دنوں کے روزوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا: میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا“۔