العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ، فَمَنْ يُوَارِيهِ قَالَ : " اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ وَلاَ تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " . فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي، وَذَكَرَ دُعَاءً لَمْ أَحْفَظْهُ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat ' Ali (may Allah be well pleased with him) said: "I said to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him): 'Your paternal uncle, the old misguided man has died. Who will bury him?' He said: 'Go and bury your father, then do not do anything until you come to me.' So I buried him then I came, and he told me to perform Ghusl and he prayed for me, and he mentioned a supplication that I do not remember
الترجمة الأردية
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آپ کے بوڑھے گم کردہ راہ چچا ( ابوطالب ) مر گئے ہیں، انہیں کون دفن کرے؟ آپ نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اپنے باپ کو دفن کر دو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا جب تک میرے پاس لوٹ نہ آنا“، چنانچہ میں انہیں دفن کر آیا، تو آپ نے میرے لیے ( نہانے کا ) حکم دیا، میں نے غسل کیا، اور آپ نے مجھے دعا دی۔ راوی ناجیہ بن کعب فرماتے ہیں: اور علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ایک ایسی دعا کا ذکر کیا جسے میں یاد نہیں رکھ سکا۔
