العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ فَزِعًا حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي بِنَا حَتَّى انْجَلَتْ فَلَمَّا انْجَلَتْ قَالَ " إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ إِلاَّ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا بَدَا لِشَىْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلاَةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated that Hadrat An-Nu'man bin Bashir (may Allah be well pleased with him) said: "The sun eclipsed during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and he rushed out, dragging his cloak until he came to the masjid. He continued leading us in prayer until the eclipse ended. When it ended, he said: 'People claim that the eclipse of the sun and moon only happen when a great man dies, but that is not so. Eclipses of the sun and the moon do not happen for the death or birth of anyone, but they are signs from Allah (SWT), the Mighty and Sublime. When Allah, the Mighty and Sublime, manifests Himself to anything of His creation, it humbles itself before Him, so if you see that then pray like the last obligatory prayer you did before that
الترجمة الأردية
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد آئے، اور ہمیں برابر نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا: کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کے مرنے پر لگتا ہے، ایسا کچھ نہیں ہے، سورج اور چاند گرہن نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے لگتا ہے اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، اللہ تعالیٰ جب اپنی کسی مخلوق کے لیے اپنی تجلی ظاہر کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے، تو جب کبھی تم اس صورت حال کو دیکھو تو تم اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو، جو تم نے ( گرہن لگنے سے پہلے ) پڑھی ہے ۱؎۔
