العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ خَصْلَتَانِ لاَ أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا بَعْدَ مَا شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ جَاءَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَجَانِبَىْ عِمَامَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ قَالَ وَصَلاَةُ الإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَقَامُوا الصَّلاَةَ وَقَدَّمُوا ابْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى خَلْفَ ابْنِ عَوْفٍ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ ابْنُ عَوْفٍ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى مَا سُبِقَ بِهِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Al-Mughirah bin Shu'bah (may Allah be well pleased with him) said: "There are two things which I never asked anyone about after I saw the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He was with us on a journey and he went away to relieve himself, then he came and performed Wudu', and he wiped over his forehead and two sides of his 'Imamah, and he wiped over his Khuffs." He said: "And (the other issue) the Imam's Salah behind one of his followers. I saw the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when he was on a journey and time for prayer came. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) could not join them, so they called the Iqamah and they asked Ibn 'Awf to lead them in prayer. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came and offered the remainder of the prayer behinf Ibn 'Awf, then when Ibn 'Awf said the Salah, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stood up and completed what he had missed (of the prayer)
الترجمة الأردية
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: دو باتیں ایسی ہیں کہ میں ان کے متعلق کسی سے نہیں پوچھتا، اس کے بعد کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو انہیں کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، ( پہلی چیز یہ ہے کہ ) ایک سفر میں ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلے، پھر واپس آئے تو آپ نے وضو کیا، اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں جانب کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، ( دوسری چیز ) حاکم کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رکے رہ گئے، چنانچہ لوگوں نے نماز کھڑی کر دی اور ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آگے بڑھا دیا، انہوں نے نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، اور ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے جو نماز باقی رہ گئی تھی پڑھی، جب ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، اور جس قدر نماز فوت ہو گئی تھی اسے پوری کی۔
