العربية (الأصل)
حدثناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا مِهْران بن هارون الرازي، حدثنا الفضل بن العباس الرازي - وهو فَضْلَكُ الرازي - حدثنا إبراهيم بن محمد بن حَمَّويهِ الرازي، حدثنا سفيان بن عُقْبة أخو قَبيصة، عن حمزة الزيَّات وسفيان الثَّوري، عن زُبَيد، عن مُرَّة، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ الله قَسَمَ بينكم أخلاقَكم كما قَسَمَ بينكم أرزاقَكم، وإنَّ الله يعطي المالَ مَن يحبُّ ومن لا يحبّ، ولا يُعطي الإيمانَ إلَّا من يحبُّ، وإذا أَحبَّ اللهُ عبدًا أعطاه الإيمانَ"(1). وأما المتابع الذي ليس من شرط هذا الكتاب، فعبدُ العزيز بن أَبان(2)، والحديث معروفٌ به، فقد صحَّ بمتابعَينِ لعيسى بن يونس، ثم بمتابع للثوري عن زُبيدٍ، وهو حمزة الزيَّات.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 95 - ورواه عبد العزيز بن أبان وليس من شرط كتابنا عن الثوري
الترجمة الإنجليزية
'Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Indeed, Allah has distributed your character among you just as He has distributed your provision among you. Allah gives wealth to those He loves and those He does not love, but He gives faith only to those He loves. When Allah loves a servant, He grants him faith."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق کو اسی طرح تقسیم کیا ہے جس طرح تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کیے ہیں، اور یقیناً اللہ تعالیٰ مال اسے بھی دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے بھی جس سے محبت نہیں کرتا، لیکن ایمان صرف اسے عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے، چنانچہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے ایمان عطا فرما دیتا ہے۔“رہی بات اس متابع (سفیان بن عقبہ) کی جو اس کتاب کی شرط پر نہیں، تو وہ عبدالعزیز بن ابان ہیں اور یہ حدیث ان کے حوالے سے معروف ہے، پس عیسیٰ بن یونس کے دو متابعین اور ثوری کے ایک متابع حمزہ زیات سے یہ حدیث ثابت ہو جاتی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 95]
