العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفّان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان ومحمد بن محمود البُنَاني، قالا: حدثنا عبد العزيز بن مُسلِم، عن الأعمش، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن يحيى بن جَعْدة، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ أنه قال:"لا يدخلُ الجنةَ مَن كان في قلبِه حبةٌ من كِبْر" فقال رجل: يا رسول الله، إنه ليُعجِبُني أن يكونَ ثوبي جديدًا، ورأسي دَهِينًا، وشِراكُ نَعْلي جديدًا؛ قال: وذَكَرَ أشياءَ حتى ذكر عِلَاقةَ سوطِه، فقال:"ذاكَ جَمَالٌ، واللهُ جميلٌ يحبُّ الجمالَ، ولكنَّ الكِبْرَ مَن بَطِرَ الحقَّ وازدَرَى الناسَ"(3).هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا جميعًا برواته(1). وله شاهد آخر على شرط مسلم:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 69 - احتجا برواته
الترجمة الإنجليزية
'Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "No one shall enter Paradise who has even a mustard seed's weight of arrogance in his heart." A man said: "O Messenger of Allah, I like my garment to be new, my hair to be groomed, and my shoe strap to be new" — and he mentioned several other things, even the strap of his whip. The Prophet said: "That is beauty, and Allah is beautiful and loves beauty. Rather, arrogance is rejecting the truth and looking down on people." Al-Hakim graded it sahih al-isnad.
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ پسند ہے کہ میرا لباس نیا ہو، میرا سر صاف ہو، اور میرے جوتے کا تسمہ نیا ہو؛ یہاں تک کہ اس نے اپنے کوڑے کی رسی کا بھی ذکر کیا، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ تو خوبصورتی ہے، اور اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے، لیکن تکبر تو حق کا انکار کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے۔ اس کا ایک اور شاہد امام مسلم کی شرط پر موجود ہے:[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 69]
