العربية (الأصل)
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن بِشْر بن مَطَر، حدثنا وهب بن بَقيَّة. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا إسحاق بن شاهين؛ قالا: حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود عن أبي حَرْب، عن عبد الله بن فَضَالة، عن أبيه قال: عَلَّمَني رسول الله ﷺ، فكان فيما عَلَّمَني أن قال:"حافِظْ على الصَّلَوات الخَمْس" فقلت: هذه ساعاتٌ لي فيها أشغالٌ، فحدِّثني بأمرٍ جامعٍ إذا أنا فعلتُه أجزأَ عني، قال:"حافِظْ على العَصْرَينِ" - قال: وما كانت من لغتنا - قلت: وما العَصرانِ؟ قال:"صلاةٌ قبلَ طلوع الشمس، وصلاةٌ قبلَ غروبِها"(3). أبو حرب بن أبي الأسود الدِّيلي تابعيٌّ كبير، عنده عن أكابر الصحابة لا يَقصُر سماعُه عن فَضَالة بن عبيد الليثي، فإنَّ هشيم بن بشير حافظ معروف بالحفظ، وخالد بن عبد الله الواسطي صاحبُ كتاب، وهذا في الجملة كما خرَّج مسلم في كتاب الإيمان(1)حديثَ شعبة عن عثمان بن عبد الله بن مَوْهَب، وبعده عن محمد بن عثمان عن أبيه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 51 - وخولف هشيم رواه خالد بن عبد الله عن أبي حرب عن عبد الله بن فضالة عن أبيه قال علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم
الترجمة الإنجليزية
'Abdullah ibn Fadalah narrated from his father (Fadalah al-Laythi, may Allah be pleased with him): "The Messenger of Allah (peace be upon him) taught me, and among what he taught me, he said: 'Guard the five daily prayers.' I said: 'These are times when I am busy, so tell me something comprehensive that will suffice for me if I do it.' He said: 'Guard the two 'Asrs (al-'Asrayn).' — the narrator said this was not a word from our language — I asked: 'What are the two 'Asrs?' He said: 'A prayer before sunrise (Fajr) and a prayer before sunset ('Asr).'"
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن فضالہ اپنے والد (سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے (دین کی باتیں) سکھائیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بھی فرمایا:”پانچوں نمازوں کی حفاظت کیا کرو“، میں نے عرض کیا: یہ ایسے اوقات ہیں جن میں، میں مصروف ہوتا ہوں، لہٰذا مجھے کوئی ایسی جامع بات بتا دیجیے کہ اگر میں اسے کر لوں تو وہ میری طرف سے کافی ہو جائے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”دو عصروں (عصرین) کی حفاظت کیا کرو“- راوی کہتے ہیں کہ یہ لفظ ہماری لغت میں نہیں تھا - چنانچہ میں نے پوچھا: یہ ’عصرین‘ کیا ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ایک نماز سورج نکلنے سے پہلے (فجر) اور ایک نماز سورج غروب ہونے سے پہلے (عصر)۔“ابو حرب بن ابی الاسود الدیلی ایک کبار تابعی ہیں، انہوں نے اکابر صحابہ سے روایت کی ہے اور ان کا سیدنا فضالہ بن عبید لیثی سے سماع بعید نہیں ہے، نیز ہشیم بن بشیر مشہور حافظِ حدیث ہیں اور خالد بن عبداللہ الواسطی صاحبِ کتاب (مستند) راوی ہیں، اور یہ مجموعی طور پر ویسے ہی ہے جیسے امام مسلم نے کتاب الایمان میں شعبہ عن عثمان بن عبداللہ بن موہب اور اس کے بعد محمد بن عثمان عن ابیہ کے واسطے سے تخریج کی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 51]
