العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سفيان، عن هشام بن حُجَير قال: كان طاووسٌ يصلي ركعتين بعد العصر، فقال له ابن عباس: اترُكْها، فقال: إنما يُنهَى عنهما أن تُتَّخَذَ سُلَّمًا أن يُوصِلَ ذلك إلى غروب الشمس، قال ابن عباس: فإنَّ النبي ﷺ وقد نهى عن صلاةٍ بعد العصر، وما أدري أيُعذَّب عليه أم يُؤجَر، لأنَّ الله يقول: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ﴾[الأحزاب: 36](1).هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين موافقٌ لما قدَّمنا ذِكرَه من الحثِّ على اتباع السُّنة، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 373 - على شرطهما
الترجمة الإنجليزية
Hisham ibn Hujayir narrated: Tawus used to pray two rak'ahs after Asr. Ibn Abbas told him: "Leave them." Tawus said: "They are only forbidden so that they are not used as a means to continue praying until sunset." Ibn Abbas said: "The Prophet (peace be upon him) has forbidden praying after Asr, and I do not know whether one will be punished or rewarded for it, because Allah says: 'It is not for a believing man or woman, when Allah and His Messenger have decided a matter, that they should have any choice in their affair' [al-Ahzab: 36]."
الترجمة الأردية
ہشام بن حجیر سے روایت ہے کہ طاؤس عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو؛ انہوں نے کہا: ان سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ انہیں غروبِ آفتاب تک پہنچنے کا ذریعہ نہ بنا لیا جائے؛ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بے شک نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے عصر کے بعد (ہر قسم کی) نماز سے منع فرمایا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ تمہیں اس پر عذاب ہوگا یا ثواب، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ﴾”اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے یہ گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔“[سورة الأحزاب: 36]یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور سنت کی اتباع کی ترغیب کے موافق ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 378]
