العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان(4)، حدثنا بِشْر بن بكر، حدثني ابن جابر قال: سمعتُ سُلَيمَ بنَ عامر يقول: سمعتُ عوفَ بن مالك الأَشجعيَّ يقول: نزلنا مع رسول الله ﷺ مَنزِلًا، فاستيقظتُ من الليل، فإذا لا أَرى في العسكر شيئًا أطولَ من مُؤْخِرة رَحْلي، لقد لَصِقَ كلُّ إنسان وبعيرُه بالأرض، فقمت أتخلَّلُ الناسَ حتى دَفَعتُ إلى مَضجَعِ رسول الله ﷺ، فإذا ليس فيه، فوضعتُ يدي على الفِراش، فإذا هو بارد، فخرجتُ أتخلَّلُ الناسَ وأقول: إنّا لله وإنّا إليه راجعون، ذُهِبَ برسول الله ﷺ، حتى خرجتُ من العسكر كلِّه، فنظرتُ سَوَادًا فرَمَيتُ بحجرٍ، فمَضَيتُ إلى السَّوَاد، فإذا معاذُ بن جبل وأبو عُبيدة بن الجرَّاح، وإذا بين أيدينا صوتٌ كدَوِيِّ الرَّحَى، أو كصوت القَصْباء(1)حين يصيبها الريح، فقال بعضنا لبعض: يا قوم، اثبُتوا حتى تُصبِحوا أو يأتيَكم رسول الله ﷺ، قال: فلَبِثْنا ما شاء الله، ثم نادى:"أثَمَّ معاذُ بن جبل وأبو عُبيدة بن الجرَّاح وعوفُ بن مالك؟" فقلنا: أيْ نَعَم، فأقبلَ إلينا، فخرجنا نمشي معه لا نسألُه عن شيء ولا نخبرُه بشيء، فقَعَدَ على فِراشِه، فقال:"أتدرون ما خَيَّرني به ربِّي الليلةَ؟" فقلنا: الله ورسوله أعلم، قال:"فإنه خيَّرني بين أن يُدخِلَ نصفَ أُمتي الجنةَ وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعةَ" قلنا: يا رسول الله، ادعُ الله أن يجعلَنا من أهلها، قال:"هي لكلِّ مسلمٍ"(2).هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، ورواته كلُّهم ثقات على شرطهما جميعًا، وليس له عِلَّة، وليس في سائر أخبار الشفاعة:"هي لكلِّ مسلم".[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 36 - على شرطهما
الترجمة الإنجليزية
'Awf ibn Malik al-Ashja'i (may Allah be pleased with him) narrated: "We camped with the Messenger of Allah (peace be upon him) at a certain place. I woke up at night and found nothing taller in the camp than the back of my saddle — every person and camel had sunk to the ground. I got up and walked through the people until I reached the bed of the Messenger of Allah (peace be upon him), but he was not there. I touched the bed and it was cold. I went out through the people saying: 'Indeed we belong to Allah and to Him we shall return — the Messenger of Allah has been taken!' Until I came out of the entire camp and saw a dark figure. I threw a stone at it and went toward it, and there were Mu'adh ibn Jabal and Abu 'Ubaydah ibn al-Jarrah. Before us was a sound like the buzzing of a millstone or the rustling of reeds in the wind. We said to one another: 'Stay firm until morning comes or the Messenger of Allah returns to you.' We waited as long as Allah willed, then he called out: 'Are Mu'adh ibn Jabal, Abu 'Ubaydah ibn al-Jarrah, and 'Awf ibn Malik there?' We said: 'Yes.' He came toward us, and we walked with him without asking him anything. He sat on his bed and said: 'Do you know what my Lord offered me tonight?' We said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: 'He gave me the choice between admitting half of my Ummah into Paradise or intercession, and I chose intercession.' We said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah that He makes us among its people.' He said: 'It is for every Muslim.'" Al-Hakim graded it sahih according to the criteria of Muslim.
الترجمة الأردية
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ایک منزل پر اترے، میں رات کو بیدار ہوا تو مجھے لشکر میں اپنے کجاوے کے پچھلے حصے سے زیادہ اونچی کوئی چیز نظر نہ آئی، ہر انسان اور اونٹ زمین سے چمٹا ہوا (سو رہا) تھا۔ میں لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے بستر تک پہنچا تو آپصلی اللہ علیہ وسلموہاں نہیں تھے، میں نے بستر پر ہاتھ لگایا تو وہ ٹھنڈا تھا، میں لوگوں کے درمیان سے یہ کہتے ہوئے نکلا کہ«إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو کہیں لے جایا گیا ہے، یہاں تک کہ میں پورے لشکر سے باہر نکل گیا۔ میں نے ایک سیاہی (سایہ) دیکھی تو پتھر پھینکا اور اس کی طرف بڑھا، تو وہاں سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما موجود تھے، اور ہمارے سامنے سے چکی کے چلنے جیسی یا ہوا چلنے پر سرکنڈوں کے ہلنے جیسی آواز آ رہی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے سے کہا: اے لوگو! صبح ہونے تک یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے آنے تک یہیں جمے رہو۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم جتنا اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے آواز دی:”کیا وہاں معاذ بن جبل، ابوعبیدہ بن جراح اور عوف بن مالک موجود ہیں؟“ہم نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمہماری طرف تشریف لائے، ہم آپصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ چلنے لگے، نہ ہم نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے کچھ پوچھا اور نہ ہی آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں کچھ بتایا، یہاں تک کہ آپصلی اللہ علیہ وسلماپنے بستر پر بیٹھ گئے اور فرمایا:”کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟“ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میرے رب نے مجھے اس بات کے درمیان اختیار دیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل کر دی جائے یا پھر مجھے مقامِ شفاعت عطا کیا جائے، تو میں نے شفاعت کو منتخب کر لیا۔“ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں شفاعت پانے والوں میں شامل کر دے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔“یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے تمام راوی شیخین کی شرط پر ثقہ ہیں، اس میں کوئی علت نہیں ہے، اور شفاعت کی دیگر روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ یہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 36]
